نئی دہلی،28فروری( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر جاری کشیدگی کے درمیان کانگریس کو دہلی ہائی کورٹ سے زور کا جھٹکا لگا ہے۔نیشنل ہیرالڈ کے پبلیشر ایسوسی جرنلس لمیٹڈ (اے جے ایل) نے ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے حکم کے بعد کورٹ سے سپریم کورٹ میں اپیل کے لئے 2 ہفتے کا وقت مانگا تھا جسے ڈبل بنچ نے دینے سے انکار کر دیا۔کورٹ کے حکم کے بعد اے جے ایل کو اب 56 سال پرانے ہیرالڈ ہاؤس خالی کرنا ہوگا،اگرچہ ذرائع کے مطابق اے جے ایل ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتی ہے۔ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں ایل این ڈی او کی جانب سے ہیرالڈ ہاؤس کو خالی کرنے کے گزشتہ سال 31 اکتوبر میں بھیجے گئے نوٹس کو صحیح ٹھہرایا ہے۔کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اخبار کو چھاپنے کے لئے لیز پر دی گئی زمین کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا،فیصلے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ کی ڈبل بنچ نے بھی سپریم کورٹ میں اپیل کے لئے 2 ہفتے کا وقت دینے سے بھی انکار کر دیا۔
اس سے پہلے 21 دسمبر کو دہلی ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے بھی اے جے ایل کو ہیرالڈ ہاؤس کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد اے جے ایل نے ڈبل بنچ کے سامنے اپیل لگائی تھی۔اے جے ایل نے حکم کے بعد کورٹ سے آگے سپریم کورٹ میں اپیل کے لئے 2 ہفتے کا وقت مانگا تھا، لیکن ہائی کورٹ نے وہ وقت دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس راجندر مینن اور جسٹس وی راؤ کی ایک بنچ نے 18 فروری کو مرکزی اور متعلقہ جرنلس لمیٹڈ (اے جے ایل) کی دلیلیں سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔اس سے پہلے اے جے ایل کی جانب سے دلیل پیش کرتے ہوئے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا تھا کہ کمپنی کے اکثریتی حصص ینگ انڈیا منتقل ہونے سے کانگریس صدر راہل گاندھی اور سونیا گاندھی دہلی میں واقع ہیرالڈ ہاؤس کے مالک نہیں بن جائیں گے۔
کورٹ میں سماعت کے دوران ابھیشیک منو سنگھوی نے یہ بھی دلیل دی کہ مرکز نے گزشتہ سال جون سے پہلے ہیرالڈ ہاؤس میں پرنٹنگ سرگرمیوں کی کمی کا مسئلہ کبھی نہیں اٹھایا تھا، اس وقت تک جب اس کے کچھ آن لائن ورژن کی اشاعت شروع ہو چکی تھی،تاہم مرکز کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ کی جانب سے دلیل دی گئی تھی کہ جس طرح سے حصص کی منتقلی ہوئی اس میں کورٹ کو یہ دیکھنے کے لئے اے جے ایل پر پڑے کارپوریٹ پردے کے اس پار جھانکنا ہوگا کہ ہیرالڈ ہاؤس کی ملکیت کس کے پاس ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ہیرالڈ ہاؤس کو اخبار کے لئے دیا گیا تھا جبکہ ہیرالڈ ہاؤس میں 2008 میں ہی اخبار کی اشاعت کو بند کر دیا گیا اور وہاں کے عملے کو رضاکارانہ ریٹائرمنٹ دے کر ہٹا دیا گیا۔ایسے میں جب وہاں اشاعت کا کوئی کام ہی نہیں ہو رہا تھا تو حکومت کے پاس اس جگہ کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اس لیز کو منسوخ کرنا لازمی تھا۔اس عمارت میں پاسپورٹ آفس بھی چل رہا ہے جس کا کرایہ اے جے ایل کو ہی جاتا ہے۔